الحمدللہ رمضان اور اسکی اہمیت سے تمام مسلمان واقف ہیں۔ جس طرح عید کی نماز سے قبل عموماً امام صاحب نماز کا طریقہ دہراتے ہیں تاکہ غلطی کی گنجائش نہ رہے، اسی طرح اس تحریر کا مقصد رمضان المبارک کی اہمیت اور اس سے متعلق مسائل ذہن میں تازہ کرنا ہے تاکہ اللہ کی مدد اور توفیق سے ہم یہ رمضان بہترین انداز میں گزار سکیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں۔ (ان شاء اللہ)
رمضان کے روزے رکھنا دینِ اسلام کے پانچ بڑے ستونوں میں سے چوتھا ستون ہے۔ اس کی اہمیت قرآن اور حدیث دونوںمیں واضحطور پر بیان کی گئ ہے۔ ذیل میں رمضان، اس ماہ کے روزے، روزےدار کا مقام اور جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے کا بیانہے:
يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ ۞
اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تمہارے اندر تقوی پیدا ہو۔ (۲:۱۸۳)
…وَاَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَيۡرٌ لَّـکُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ۞
… اور اگر تم کو سمجھ ہو تو روزے رکھنے میں تمہارے لیے زیادہ بہتری ہے۔ (۲:۱۸۴)
شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰن ُ هُدًىلِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰىوَالۡفُرۡقَانِۚ فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡهُؕ وَمَنۡ کَانَمَرِيۡضًا اَوۡ عَلٰىسَفَرٍفَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَؕ يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِکُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَوَلِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمۡ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ۞
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دکھاتی اور حق و باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردیتی ہیں، لہذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے وہ اس میں ضرور روزہ رکھے، اور اگر کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے،اللہتمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے اور تمہارے لئے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا، تاکہ (تم روزوں کی) گنتی پوری کرلو، اور اللہ نے تمہیں جو راہ دکھائی اس پر اللہ کی تکبیر کہو اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔ (۲:۱۸۵)
حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
سحری کھانا سنت ہے۔ اس لئے سحری میں کچھ نہ کچھ لازمی کھائیں، خواہ کم مقدار میں ہی کچھ کھایا جائے تاکہ سحری کی برکات میسر ہو سکیں۔
سحری کھائے بغیر روزہ ہو جاتا ہے لیکن سحری کی برکات میسر نہیں ہوتیں۔ سحری چھوٹ جانے کی صورت میں بغیر سحری کے ہی روزہ رکھنا ہوگا کیونکہ روزہ فرض ہے اور سنت کے ترک ہونے سے فرض سے رخصت نہیں ملتی۔
سحری جتنی تاخیر سے کریں اتنا بہتر ہے۔ لیکن اتنی تاخیر مت کریں کہ صبح صادق کا وقت شروع ہو جائے۔ مثلاً اگر صبح صادق کا وقت چار بجے شروع ہوتا ہے توہ رات بارہ بجے سحری کھانے کے بجائے دو بجے کھانا بہتر ہے۔ اور تین بجے کھانا اس سے بھی بہتر۔ غرض یہ کہ سحری کا وقت صبح صادق کےجتنا قریب ہو اتنا بہتر ہے۔
ہمارے ہاں اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ "سحری تاخیر سے کرنے" کا مطلب کچھ اور ہی لے لیا جاتا ہے۔ بعض لوگ اذان شروع ہونے تک کھاتے پیتے رہتے ہیں اور بعض تو آخری اذان کے ختم ہونے تک کھانا پینا نہیں چھوڑتے۔ یاد رکھیں کہ فجر کی اذان صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد دی جاتی ہےجبکہ سحری کا وقت صبح صادق طلوع ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے اگر اذان کی آواز آنے تک کھانا پینا جاری رکھا جائے تو روزہ نہیں ہوگا۔ اس میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہے۔ احتیاط اسی میں ہے کہ سحراور افطار کے اوقات آپ کو معلوم ہوں اور آپ وقت ختم ہونے سے پانچ سات منٹ پہلے ہی کھانا پینا چھوڑ کر کلی وغیرہ کر کے فارغ ہو چکے ہوں۔ آج کل یہ اوقات معلوم کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ رمضان کیلنڈر یا کسی بھی مستند موبائل ایپ کے ذریعے یہ اوقات باآسانی معلوم کئے جا سکتے ہیں۔
روزے کی نیت کا تعلق سحری سے نہیں۔ البتہ بغیر نیت کے بھوکا پیاسا رہنے سے روزہ نہیں ہوگا، نیت کا ہونا ضروری ہے۔ نیت کا مطلب دل میں ارادہ کرنا ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں، اگر کہہ دے تو اچھی بات ہے اور اگر زبان سے نیت کے کلمات نہ کہے اور دل میں نیت کر لے تو روزہ ہو جائے گا۔
اگر اپنے اختیار سے قے لایا، یا قے تو خود آئی لیکن قصداً واپس لے گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا
مندرجہ ذیل صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضاء واجب ہوگی، کفارہ نہیں ہوگا
صبح صادق سے سورج غروب ہونے کے درمیان اگر جان بوجھ کر کچھ کھا پی لیا یا ہمبستری کر لی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس صورت میں قضاء کرنا ہوگی اور کفارہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔
ایک غلام آزاد کرے یا پھر مسلسل ساٹھ (۶۰) دن روزے رکھے (اگر ایک بھی ناغہ ہوگیا تو دوبارہ گنتی شروع کرے)۔اور اگر ساٹھ دن لگاتار روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
جن لوگوں کو رمضان کے روزے سے رخصت ہے ان پر بھی رمضان اور روزے داروں کا احترام لازم ہے۔ ایسے لوگ دوسروں پہ یہ ظاہر نہ کریں کہ وہ روزے سے نہیں ہیں، یعنی سب کے سامنے کھاتے پیتے نہ پھریں۔
افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے۔ غروبِ آفتاب سے پہلے کچھ بھی کھا پی لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اس لئے اس میںبے حد احتیاط کی ضرورت ہے۔ مستحب یہ ہے کہ جب سورج غروب ہونے کا یقین ہو جائے تو فوراً روزہ افطار کر لے۔تاخیر کرنے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔
کسی بھی حلال شئے سے روزہ کھولنا درست ہے۔ کھجور یا کسی بھی میٹھی چیز سے روزہ کھولنا بہتر ہے۔ اگر میسر نہ ہو تو پانی بہتر ہے، ورنہ جو بھی حلال چیز میسر ہو اسی سے افطار کر لے، کسی خاص چیز کے انتظار میں تاخیر کرنا درست نہیں کیونکہ تاخیر سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔
اَللَّھُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ
ترجمہ:اے اللہ!میں نے تیرے ہی واسطے روزہ رکھا اورتیرے ہی رزق سے افطارکیا۔
ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
ترجمہ:پیاس چلی گئی اوررگیں ترہوگئیں اوراللہ نے چاہاتواجروثواب قائم ہوگیا۔
اس معاملے میں شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔ بڑے علماء کرام کی رائے میں پہلی دعا (جو مسئلہ نمبر ۳ میںمذکور ہے) غروب آفتاب کے وقت افطار سے قبل ہونی چاہئے کیونکہ اس وقت اس میں عاجزی وانکساری اور تذلل جمعہوتی ہے اور پھر وہ روزے سے بھی ہے اور یہ سب کے سب دعا کے قبول ہونے کے اسباب ہیں اور افطار کے بعد توانسان کا نفس راحت اور فرحت وخوشی میں ہوتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑ جائے۔ اور اگر آپغور کریں تو دوسری دعا (جو مسئلہ نمبر ۴ میں ہے) کے الفاظ افطار کے بعد ادا کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ بے حد قیمتی ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس تحریر کے آغاز میں دی گئ احادیث سے لگا سکتے ہیں۔ اس ماہِ مبارک میں اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اس لئے عقلمند اور خوش نصیب وہی ہے جو اللہ کی زیادہ سے زیادہ رحمتیں سمیٹ لے، اپنے گناہ معاف کروا لے اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کر لے۔
اللہ کے قرب اور اس کی رضا سے زیادہ قیمتی کچھ بھی نہیں۔ جسے اللہ مل گیا اسے سب مل گیا اور جسے اللہ نہ ملا اسے کچھ نہ ملا۔ تو اللہ کو پانے کا اس سے بہتر موقع کیا ہوگا کہ جب شیطان جکڑ لیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اللہ کی رحمت پورے جوش پہ ہوتی ہے، اس کے انوار و برکات کی بارشیں ہو رہی ہوتی ہیں اور صدائیں لگائی جاتی ہیں کہ کوئی ہے مغفرت طلب کرنے والا؟ کوئی ہے توبہ کرنے والا کہ ہم اس کی توبہ قبول کریں، کوئی ہے مانگنے والا کہ ہم اسے عطاء کریں۔۔۔ اللہ فرماتا ہے کہ خیر مانگنے والے آگے بڑھ اور مانگ۔۔۔ سوچیں اگر کوئی ایسی ساعتوں کو گنوا دے تو اس سے بڑا بدبخت کون ہوگا؟ لہٰذا آئیں یہ عزم کریں کہ ہم رمضان المبارک کی قدر کریں گے اور اللہ سے دعا کریں کہ اللہ ہمیں ایسا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ان بابرکت گھڑیوں سے بھرپور مستفید فرمائے۔
ہم نے اپنے اکابرین سے سنا ہے کہ رمضان آنے والے پورے سال کا نمونہ ہوتا ہے۔ جیسا رمضان گزرے گا اللہ آنے والا سال بھی ویسا ہی گزارنے کی توفیق دیں گے۔ لہٰذا ذیل میں چند ایسے کام تحریر کئے گئے ہیں جو (ان شاء اللہ) رمضان سے مستفید ہونے اور باقی سال بہترین گزارنے میں بھی بہت مفید ثابت ہوں گے۔
ہم میں سے کوئی بھی شخص پرفیکٹ (یعنی سو فیصد خامیوں سے خالی) نہیں ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم یہ نیت کر لیں کہ اس رمضان ہم اپنی خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندر بہتری لانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ پھر رمضان کے بعد ہم خود اپنا موازنہ کریں کہ رمضان سے پہلے اور رمضان گزارنے کے بعد ہم میں سے کونسی برائی نکلی اور کیا بہتری آئی۔ اگر ہر رمضان ہم یہی عمل دہرایں اور (ان شاء اللہ) رفتہ رفتہ ہم بہتر سے بہتر انسان بنتے جائیں گے۔ اسی ضمن میں خود احتسابی کے علاوہ مندجہ ذیل امور بھی بہت مفید ہیں:
رمضان اور قرآن کریم کا تعلق چونکہ بہت گہرا ہے اس لئے اس سے بہتر موقع کیا ہوگا کہ انسان بھی اس مہینے میں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کر لے۔ چناچہ جو لوگ قرآن پڑھنا نہیں جانتے وہ رمضان میں قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں۔ اور جو لوگ قرآن پڑھنا جانتے ہیں وہ تجوید کے قواعد سیکھ کر مزید بہتر انداز میں قرآن کی تلاوت کر سکتے ہیں۔ اور جو لوگ تجوید سے بھی واقف ہیں وہ دوسروں کو سیکھا کر اپنا وقت قیمتی بنا سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔ (صحیحبخاری)
اصلاح کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انسان یہ خوب سمجھ لے کہ اسکا پروردگار اسے کس کام کا حکم دیتا ہے اور کس کام سے منع فرماتا ہے۔ یہی اصل دین ہے۔ ہمیں چاہیے کہ رمضان میں اپنے دین کو سیکھنے کا خصوصی اہتمام کریں۔ مستند و معتبر علماء سے سوالات کریں اور مسائل سیکھیں۔ مستند کتب کا مطالعہ کریں اور بزرگوں کی اصلاحی مجالس میں شرکت کریں تاکہ دین کا علم بھی حاصل ہو اور اللہ سے مضبوط تعلق بھی استوار ہو سکے۔
زندگی میں ترتیب ہونا بہت ضروری ہے۔ رمضان میں اس کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ وقت کی قلت اور اہم امور زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ اپنا وقت اس طریقے سے تقسیم کریں کہ کوئی اہم کام رہ نہ جائے، پھر چاہے وہ عبادات ہوں، کاروبار ہو یا آرام۔ البتہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ رمضان میں اپنی نیند اور آرام کے اوقات میں کسی قدر کمی لانا بہتر ہے۔ کیونکہ کہ خاص موقع ہے جو سال میں صرف ایک مرتبہ آتا ہے اور اس موقع کو سو کر گزار دینے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ لیکن اتنی نیند اور آرام بہرحال ضروری ہے جس سے آپ عبادات اور دیگر امور کے لئے آپ خود کو تیار کر سکیں۔ آرام نہ کرنے سے صحت خراب ہوگی اور عبادات اور دیگر معمولات میں بھی حرج ہوگا۔ لہٰذا میانہ روی سے کام لینے میں ہی بہتری ہے۔ اپنا شیڈول ترتیب دیتے وقت درج ذیل امور کو ضرور پیش نظر رکھیں:
میری ذاتی رائے میں (خاص طور پہ رمضان المبارک میں) اگر ایک ہی مرتبہ آرام کرنے کی بجائے دن کے مختلف اوقات میں تھوڑا تھوڑا آرام کر لیا جائے تو انسان ہر وقت چست رہتا ہے اور بخوبی اپنے کام اور عبادات کر سکتا ہے۔ ایک مرتبہ اپنی سمجھ کے مطابق شیڈول بنا لیں۔ پھر ایک دو دن اس پہ عمل کر کے دیکھیں اور کہیں کوئی غلطی یا کمی سامنے آئے تو اسے ٹھیک کر لیں۔ اس طرح ایک دو دن میں ہی آپ ایک قابلِ عمل شیڈول بنا چکے ہوں گے، پھر اس پر کاربند ہوجائیں۔
سال کے گیارہ ماہ ہم غفلت اور نفس پرستی میں گزار دیتے ہیں۔ اللہ کے احکامات کو جانے انجانے نظر انداز کر کے ہم اپنی عیش اور تسکین کے لئے مختلف گناہ کر تے رہتے ہیں۔ عہد کریں کہ اللہ نے جن کاموں سے منع فرمایا انہیں کم از کم رمضان کے بابرکت مہینے میں ترک کر دیں گے۔ گو کہ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا لیکن اگر ہم اس مہینے کو ٹرئننگ (تربیت/مشق) کے مہینے کے طور پہ لیں گے اور اس سے حاصل ہونے والے ثمرات کو ذہن میں رکھیں گے اور اللہ سے دعا کرتے رہیں گے تو انشاءاللہ رفتہ رفتہ ہمارے سارے گناہ چھوٹ جائیں گے۔ مثلاً کوشش کریں کہ بات کرتے وقت اس چیز کا خاص خیال رکھیں کہ یہ بات کہیں غیبت تو نہیں۔۔۔ اس سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوگی۔۔۔ میری بات بیہودہ تو نہیں۔۔۔۔ کیا یہ بات کہنا ضروری بھی ہے کہ نہیں۔۔۔؟ ایسا کرنے سے زبان سے متعلق گناہ چھوٹ جائیں گے۔ اسی طرح بدنظری، میوزک، جھوٹ اور دیگر گناہوں کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اپنے نفس کو بہلائیں کہ صرف ایک ماہ کی ہی تو بات ہے۔۔۔ اور ساتھ ساتھ اللہ کے حضور دعا کرتے رہیں کہ اے میرے مالک میں فلاں گناہ آج تک کرتا رہا ہوں اور اس پہ شرمندہ ہوں، آپ مجھے معاف فرما دیجئے۔۔۔ مجھ سے یہ گناہ چھوڑوا دیجئے۔۔۔ اور مجھے توبہ پہ استقامت عطاء فرمائیے۔ جب اللہ کی رضاء کے حصول کی نیت سے یہ کام کریں گے تو آپ خود دیکھیں گے کہ اللہ کیسے آپ سے وہ گناہ بھی چھڑوا دیں گے جن کو چھوڑنا آپ کو ناممکن لگتا تھا۔ جب گناہوں کی نحوست زائل ہوگی تو آپ خود اللہ کی رحمتیں اترتی دیکھیں گے۔
رمضان میں معمول کی عبادات سے (اپنی ہمت اور شوق کے مطابق) کچھ نہ کچھ زائد ادا کریں۔ مثلاً
رمضان کریم میں قرآن مجید کی تلاوت کو خود پر لازم کر لیں خواہ تھوڑا پڑھیں یا زیادہ۔ مثلاً اگر آپ روزانہ قرآن پڑھنے کے عادی نہیں تو رمضان میں کم از کم ایک مرتبہ پورا قرآن ضرور پڑھ لیں۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ایک نشست میں پورا پارہ پڑھنا ممکن نہ ہو تو ہر نماز کے بعد ۱۰، ۱۵ منٹ پڑھ لیں۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو جتنا وقت روزانہ نکال سکیں اتنا ہی پڑھ لیں لیکن ایک تو تلاوت کو رمضان میں ہرگز ترک نہ کریں اور دوسرا یہ کہ جتنا بھی پڑھیں مستقل مزاجی سے پڑھیں۔ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر عمل ہو ہے جو مستقل مزاجی سے ہو خواہ تھوڑا ہو۔
رمضان میں چلتے پھرتے ذکر جاری رکھیں۔ اس سے آپ فضول گوئی سے بھی بچے رہیں گے اور ذکر کے ثمرات بھی پا لیں گے۔ استغفار، درود پاک، لا الہ الا اللہ کی کثرت کریں۔ ممکن ہو تو کچھ وقت ذکر کے لئے مخصوص بھی کر لیں جس میں آپ صرف ذکر کریں۔ یہاں بھی کوشش کریں کہ ان خاص اوقات کے لئے بھی ذکر کی ایک ایسی مقدار معین کر لیں جو آپ مستقل مزاجی سے کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں کامیاب لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ کم از کم رمضان میں فضول باتوں اور کاموں سے اجتناب کریں، مثلاً، ٹی وی، سوشل میڈیا، گیمز وغیرہ۔۔۔
رمضان المبارک میں کثرت سے دعائیں مانگنے کا معمول بنا لیں۔ پھر خواہ آپ دنیا مانگیں یا آخرت لیکن اللہ سے دعا ایسے مانگیں جیسے آپ اس سے باتیں کر رہے ہوں۔ آپ کے دل کا حال وہ خوب جانتا ہے لیکن پھر بھی آپ اسے اپنا حال اپنی زبان سے سنائیں۔ اس کے سامنے گڑگڑائیں، اسکی عظمت بیان کریں، نبی کریم ﷺ پہ درور بھیجیں، اپنی حقارت کا اعتراف کریں اور پھر اس سے ایسے باتیں کریں جیسے وہ آپ کا سب سے قریبی دوست ہے، جیسے وہ آپ کو دیکھ رہا ہے ، سن رہا ہے اور ایسے جیسے وہ آپ کی پکار کا جواب بھی دے رہا ہے اور آپ کے پاس موجود ہے۔ ان دعاؤں میں مجھے، میرے والدین، اساتذہ اور اہل خانہ کو بھی ضرور یار رکھئیے گا۔
اعتکاف کے لغوی معنی ٹھہرنا یا رکنا ہیں۔ اصطلاحِ شریعت میں ایک مخصوص طریقے سے ایک خاص مدت تک اللہ کی رضا کے لیے ایک مخصوض جگہ پر ٹھہرنے کو اعتکاف کہتے ہیں۔
اعتکاف کی تین اقسام ہیں:
رمضان کے آخری عشرے میں (یعنی ایکس ۲۱ رمضان کی شب سے عید کا چاند نظر آنے تک) مسجد میں قیام کرنا، یہ مسنون اعتکاف ہے۔ اس تحریر میں اسی اعتکاف کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ جب کہ دوسری دو اقسام کا تذکرہ محض مختصر تعارف کی حد تک ہے۔
اگر کسی نےاعتکاف کی نذر مانی تو یہ اعتکاف اس پر واجب ہوگا۔ واجب اعتکاف کی دوسری صورت کسی اعتکاف کی قضا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے مسنون اعتکاف کیا اور کسی وجہ سے وہ اعتکاف ٹوٹ گیا تو اس کی قضا اب واجب ہوگی۔
یہ وہ اعتکاف ہے جو سال میں کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔
اس اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے روز مرّہ کے معمولات (روٹین) کو ترک کر کے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس کے در پر بیٹھ جائے اور ناگزیر ضروریات کے علاوہ ہر شے سے لاتعلق ہو کر اللہ سے لو لگا لے۔ انسان جب اس عاشقانہ طرز پر اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ (اس اعتکاف کے دوران) اس کا کھانا، پینا، سونا، جاگنا سب کچھ عبادت میں شمار کرتا ہے۔ اعتکاف جیسے قیمتی لمحات عام دنوں کی بھاگ دوڑ میں ملنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان یکسو ہو کر اللہ سے اپنے دل کے احوال بیان کر سکتا ہے، گناہوں پہ ندامت ظاہر کر کے انہیں بخشوا لیتا ہے اور اعتکاف کے بعد والی زندگی کے لئے ایک ٹریننگ سے بھی گزر جاتا ہے اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کر لیتا ہے۔ اعتکاف کرنے والا اگر چہ زبانِ قال سے کچھ نہیں کہتا لیکن زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ میں اپنے مولا کے دروازے پر ہمیشہ کھڑا رہوں گا اور اپنے تمام مقاصد حاصل ہونے مصیبتوں کے دور ہونے اور اس کا قرب حاصل ہونے کا سوال کرتا رہوں گا۔ اور اس کے لئے اپنے عزیز بھائیوں بلکہ اصلی قرابت داروں سے الگ رہوں گا یہاں تک کہ وہ میرے گناہوں کو بخش دے جو کہ اللہ تعالیٰ سے میری دوری اور مصیبتوں کے نازل ہونے کا سبب ہیں پھر وہ اپنے احسانات مجھ پر جاری فرمائے جو اس کی شان کریمی کے شایاں ہیں اور مجھ کو ایسی عزت بخشے جو اس کی حفاظت کے ٹھکانے اور اس کی حرمت کی حمایت کی طرف التجا کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے، اسطرح پڑےرہنے سے سخت سے سخت دل بھی نرم ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو ہماری مغفرت کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ (بدا ئع الصنا ئع) حضرت عطا ء خراسانی ؒ فرماتے ہیں کہ معتکف کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اللہ کے در پہ آپڑا ہو اور یہ کہہ رہا ہو یا اللہ ! جب تک آپ میری مغفر ت نہیں فرمادیں گے میں یہاںسے نہیں ٹلوں گا۔ (احکامِ اعتکاف، فضائل و مسائل)
وَعَهِدۡنَآ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِىَ لِلطَّآئِفِيۡنَ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ۞
… اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ تاکید کی کہ: تم دونوں میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک کرو جو (یہاں) طواف کریں اور اعتکاف میں بیٹھیں اور رکوع اور سجدہ بجا لائیں۔ (۲:۱۲۵)
وَلَا تُبَاشِرُوۡهُنَّ وَاَنۡـتُمۡ عٰكِفُوۡنَ فِى الۡمَسٰجِدِؕ
…اور ان (اپنی بیویوں) سے اس حالت میں مباشرت نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف میں بیٹھے ہو… (۲:۱۸۷)
اعتکاف کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہو جاتی ہے کہ آپ ﷺنے ہر رمضان میں اعتکاف فرمایا۔ جیسا کہ اماں عائشہؓ فرماتی ہیں کہ’’ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنو ں کااعتکاف کیاکرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کووفات دے دی ‘‘ (صحیح بخاری)
آنحضرت ﷺ صرف دومرتبہ آخری عشرہ کا اعتکاف نہیں فرما سکے:
حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں :کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا اور پھر دوسرے عشرہ میں بھی ، پھر ترکی خیمہ سے جس میں اعتکاف فرمارہے تھے، سر باہر نکال کرارشاد فرمایا :کہ میں نے پہلے عشرہ کااعتکاف شبِ قدر کی تلاش اور اہتمام کی وجہ سے کیا تھا ،پھر اسی کی وجہ سے دوسرے عشرہ میں کیا ، پھر مجھے کسی بتلانے والے (یعنی فرشتہ )نے بتلایا کہ وہ رات اخیر عشرہ میں ہے ۔ لہٰذا جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف کررہے ہیں وہ اخیر عشرہ کا بھی اعتکاف کریں ۔ مجھے یہ رات دکھلا دی گئی تھی پھر بھلا دی گئی ،(اس کی علامت یہ ہے کہ) میں نے اپنے آپ کو اس رات کے بعد کی صبح میں گیلی مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا، لہٰذا اب اس کو اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ ( سنن ابن ماجه )
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے بھائی کے کسی کام میں چلے پھرے اور کوشش کرے اس کے لیے دس برس کے اعتکاف سے افضل ہے ، اور جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ کی رضا کے واسطے کرتا ہے تو حق تعالیٰ شانہٗ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرمادیتے ہیں جن کی مسافت آسمان اور زمین کی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع)
ایک اور جگہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس شخص نے رمضان کی دس راتوں کا اعتکاف کیا اسے دو حج اور دو عمروں کا ثواب ملے گا۔ (رواہ الدیلمی)
مسنون اعتکاف سنتِ موکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر محلے کے کچھ لوگ اس سنت پر عمل کر لیں تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی بھی عمل نہ کرے (یعنی اعتکاف نہ کرے) تو پورے محلے کو ترکِ سنت کا گناہ ہوگا۔
ایسا نابالغ بچہ جس کو پاکی ناپاکی کا علم ہو اور نماز پڑھنا جانتا ہو ، اعتکاف کر سکتا ہے۔ البتہ یہ اس کا نفلی اعتکاف ہوگا اور اس سے سنت کفایہ ادا نہ ہوگی۔ اور اگر پاکی ناپاکی، نماز کی ادائیگی یا مسجد کے احترام سے ناواقف ہو تو ایسا بچہ اعتکاف نہیں کر سکتا۔
مرد کے لئے ضروری ہے کہ مسجد میں اعتکاف کرے۔ سب سے افضل مسجدِحرم کا اعتکاف ہے، پھر مسجدِ نبویﷺ، پھر مسجد اقصیٰ، پھر جامع مسجد یا کم سے کم ایسی مسجد جہاں پانچ وقت نماز ہوتی ہو۔ یہ ترتیب فضیلت کے اعتبار سے ہے۔ کم سے کم اس مسجد میں اعتکاف کرنا چاہیے جہاں پانچ وقت کی نماز ہوتی ہو۔
عرفِ عام میں چار دیواری کے اندر کی پوری عمارت کو مسجد کہا جاتا ہے۔ لیکن شرعی طور پہ مسجد کے حکم میں صرف وہ حصہ داخل ہے جسے بانیِ مسجد یا مسجد کے متولی مسجد قرار دیں۔ مثلاً وضو خانہ، جوتے اتارنے کی جگہ، غسل خانہ، امام یا مؤذن کا رہایشی کمرہ، صفیں وغیرہ رکھنے کے لئےسٹور وغیرہ عموماً ایک ہی عمارت میں ہوتے ہیں لیکن مسجد کے حکم میں داخل نہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے مسجد کی حدود کے بارے میں انتظامیہ سے پوچھ لیا جائے۔ کیونکہ آگے آنے والے مسئلوں میں آپ یہ تفصیل پڑھ لیں گے کہ بلا ضرورت مسجد کی حدود سے باہر جانے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لئے مسجد کی چار دیواری کو حدود سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ انتظامیہ خود سے اعتکاف کرنے والوں کو حدود کا بتا دے یا پھر اعتکاف کرنے والا خود پوچھ لے۔ خلاصہ یہ کہ مسجد کی حدود کا صحیح صحیح علم ہونا بہت ضروری ہے۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے کا مسنون اعتکاف رمضان کی ایکس (۲۱) تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے پر مکمل ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ کا آغاز چونکہ غروبِ آفتاب سے ہوتا ہے اس لئے بیسویں روزے کی افطاری (یعنی غروبِ آفتاب) کے ساتھ ہی اعتکاف شروع ہو جاتا ہے۔ اس لئے جو اعتکاف کرنا چاہے اس کے لئے لازم ہے کہ اس کا بیسواں روزہ اس مسجد کی حدود میں افطار ہو جہاں اس نے اعتکاف کرنا ہے۔ یہی معاملہ خواتین کا ہے کہ وہ اعتکاف کے لئے مختص جگہ پر ہی بیسواں روزہ افطار کریں ۔
اعتکاف میں صرف شرعی ضروریات کے تحت مسجد کی حدود سے نکلنا جائز ہے۔ اور صرف اتنے وقت کے لئے نکلنے کی اجازت ہے جس میں وہ ضرورت پوری ہو جائے۔ بلا ضرورتِ شرعیہ حدود سے نکلنے یا ضرورت پوری ہونے کے بعد مسجد کی حدود سے باہر رہنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شرعی ضروریات سے کیا مراد ہے۔ تو اس میں درج ذیل شرعی اور طبعی حاجات شامل ہیں:
ایک اصول سمجھ لیں کہ روزہ ٹوٹنے یا بلا ضرورتِ شرعیہ مسجد کی حدود سے نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ اس اصول کی بنا پر چند چیدہ چیدہ مسائل یہاں قلم بند کئے گئے ہیں:
یاد رکھیں کہ اعتکاف ٹوٹنے سے گناہ بھی ہوتا ہے اور قضا بھی واجب ہوتی ہے۔ البتہ چند صورتیں ایسی ہیں جن میں اعتکاف توڑنا جائز ہے۔ ان صورتوں میں گناہ تو نہیں ہوگا لیکن قضا پھر بھی واجب ہوگی۔
اعتکافِ مسنون ٹوٹنے کے بعد اگر رمضان کے کچھ دن باقی ہوں تو بہتر ہے کہ باقی دن نفل اعتکاف کی نیت سے پورے کرے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو یا ایسا نہ کرے تب بھی جائز ہے۔ دونوں صورتوں میں اس دن کے اعتکاف کی قضا لازم ہوگی جس دن اعتکاف ٹوٹا تھا۔ اور یہ قضا واجب اعتکاف کے حکم میں ہے یعنی اسے پورا کرنا واجب ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ غروبِ آفتاب سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہو، دن کا روزہ رکھے اور اگلے غروبِ آفتاب کے بعد مسجد سے واپس آ جائے۔
اعتکاف کے دوران موبائل فون کے استعمال سےاعتکاف تو نہیں ٹوٹتا لیکن یہ اعتکاف کی روح کے بالکل منافی ہے۔ نیز یہ کہ اگر اس پہ کوئی تصاویر یا ویڈیو وغیرہ دیکھے تو یہ مسجد کے آداب کے بھی خلاف ہے۔ اس لئے حتی الامکان کوشش کریں کہ موبائل اور ہر وہ چیز جو عبادت میں خلل واقع کر سکتی ہو اسے اعتکاف کے دنوں میں خود سے دور رکھیں۔ تاکہ اعتکاف کے اصل مقاصد حاصل ہو سکیں جن میں سب سے بڑا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔
جیسا کہ اوپر گزر چکا کہ رمضان کا اعتکاف سنت موکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر محلے کے کچھ لوگوں نے اعتکاف کر لیا تو سب محلے والوں سے یہ ذمہ ساقط ہو گیا۔ اب اگر کوئی اصلاح کی نیت سے اپنے شیخ یا کسی بزرگ یا کسی بڑے عالمِ دین کے پاس اعتکاف کرنا چاہے تو یہ نہ صرف جائز بلکہ اعتکاف کے لمحات کو قیمتی بنانے کے لئے بہت بہتر ہے۔
شبِ قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ایک نہایت فضیلت والی رات ہے۔ یہ رات اس امت کے لئے اللہ کی طرف سے ایک خاص تحفہ بلکہ احسانِ عظیم ہے۔
بنی اسرائیل میں ایک نیک شخص تھا جو ساری رات عبادت میں مشغول رہتا اور سارا دن اللہ کی راہ میں جہاد کرتا۔ ایک ہزار ماہ تک اس شخص کا یہی معمول رہا۔ نبی کریمﷺ نے جب صحابہ کرام ؓ کے سامنے اس شخص کا تذکرہ کیا تو صحابہ کو تعجب اور شوق ہوا کہ وہ اس حد تک عبادت کیسے کر سکیں گے جبکہ اب عمریں بھی اتنی طویل نہیں۔ تو اللہ کی طرف سے یہ تحفہ اس امت کو عطاء کیا گیا کہ جو شخص اس ایک رات میں عبادت کرلے اسے ایک ہزار مہینے عبادت کرنے کا ثواب ملے گا۔ (ماخوز از ابن کثیر و معارف القرآن) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں فرمایا۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِىۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ ۞ وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِؕ ۞
بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز ہے ؟
لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ ۙ خَيۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَهۡرٍؕ ۞
شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔
تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِكَةُ وَالرُّوۡحُ فِيۡهَا بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡۚ مِّنۡ كُلِّ اَمۡرٍ ۞ سَلٰمٌ هِىَ حَتّٰى مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ ۞
اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص شب قدر میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کرے گا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
شبِ قدر کی تعین سے متعلق چند باتیں اعتکاف کے موضوع کے تحت اوپر گزر چکی۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے کی ہی ایک رات ہے۔ شروع میں اس رات کی تعین نہیں کی گئ تھی چناچہ آپﷺ نے پورے رمضان کا اعتکاف فرمایا۔ پھر جب بتا دیا گیا کہ یہ شب رمضان کے آخری عشرے میں ہے تو آپﷺ نے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا تاکہ اس رات کو پا لیں۔
ایک موقع پر آپﷺ کو شبِ قدر کی اصل تاریخ کا علم بھی دیا گیا۔ آپؐ جب وہ تاریخ بتانے باہر نکلے تو دو مسلمانجھگڑا کر رہے تھے جس کی وجہ سے آپؐ کو وہ تاریخ بھلا دی گئ۔ جیسا کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کے بارے میں بتانے کے لئے نکلے اسی دوران دو مسلمان (کسی معاملے میں) آپس میں جھگڑ پڑے، آپ نے ارشاد فرمایا، میں نکلا تھا کہ تم لوگوں کو شب قدر کے بارے میں بتاوں مگر فلاںفلاں جھگڑنے لگے اور اس کا علم اٹھا لیا گیا (بھلادیا گیا) مجھے امید ہے کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہی ہے۔۔۔(صحیح بخاری) اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا جھگڑنا کس قدر بری چیز ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (مشکاۃ المصابیح)
آخری عشرے کی طاق راتوں سے مراد۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷ اور ۲۹ رمضان ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی تاریخ سورج غروب ہونے پر بدلتی ہے۔ لہٰذا ۲۱ رمضان کا بیسواں روزہ افطار کرتے ہی شروع ہو جاتی ہے، اسی طرح ۲۳ رمضان بائیسواں روزہ افطار کرتے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ اور یہی معاملہ باقی تاریخوں کا ہے۔
شبِ قدر کے لئے کوئی مخصوص اذکار یا نوافل قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔ یہ رات برکتوں اور رحمتوں والی رات ہے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ یہ رات ایسے گزارے کہ اس کے اور اس کے پروردگار کے درمیان کوئی شے حائل نہ ہو اور وہ اسی حال میں اللہ سے اپنے گناہ بھی بخشوا لے اور اپنی ضروریات بھی اللہ کے سامنے پیش کر دے اور اس خلوت میں جتنی رحمتیں اور برکتیں سمیٹ سکے سمیٹ لے۔
شبِ قدر اور قرآن کا تعلق بہت گہرا ہے اس لئے جتنی ہو سکے قرآن کی تلاوت کرے۔ ذکر و اذکار کرے اور نوافلپڑھے۔ یاد رکھیں کہ نوافل انفرادی عبادت ہیں لہٰذا نوافل کی جماعت کروانا درست نہیں۔ اور ویسے بھی انسانتنہائی میں اللہ کے سامنے جتنا کھل کے گڑگڑا سکتا ہے اتنا اجتماع میں ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے کوشش کریں کہرمضان کے آخری عشرے کی طاق راتیں تنہائی میں عبادت کر کے گزاریں۔ زیادہ سے زیادہ عبادت کریں اور دل کھول کردعائیں مانگیں۔ دعا بذاتِ خود ایک عبادت ہے، جو مانگا وہ نہ بھی ملے تب بھی دعا مانگنے کا اجر ضرور ملتاہے۔
ضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اگر مجھے شب قدر کا پتا چلجائے تو کیا دعا مانگوں؟ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہو :
اَللّٰهُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ
اے اللہ! تو بے شک معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔(ترمذی)
ضعف ، طبیعت کی خرابی یا اور کسی وجہ سے اگر ساری رات عبادت کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم اتنا ضرور کر لیں کہ عشاء کی نماز اور تراویح کے بعد دو چار نوافل پڑھ کر اللہ سے دعا کر لیں ۔ اگر ممکن ہو تو سحری سے پہلے اٹھ کر بھی کچھ نوافل، تلاوت یا دعا کا اہتمام کریں اور فجر لازمی طور پر جماعت کے ساتھ پڑھ لیں تو امید ہے کہ ایسا کرنے سے شبِ قدر کی برکات سے محروم نہیں رہیں گے۔ لیکن چونکہ یہ رات بہت قیمتی ہے اور سال میں صرف پانچ راتیں ایسی ہیں جس میں اس رات کو تلاش کرنا ہوتا ہے تو کم از کم یہ پانچ راتیں (یعنی ۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷، ۲۹ رمضان کی شب) جتنی ہو سکے ہمت کر کے عبادت کر لیں تاکہ اللہ کے خزانوں میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ پا لیں۔ ان راتوں میں دعا کرتے وقت مجھے، میرے والدین، اہلِ خانہ اور اساتذہ کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔